السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : المدبر يجوز بيعه متى شاء مالكه. باب: مدبر غلام کو اس کا مالک جب چاہے فروخت کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 21531
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالُوا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ، لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ يَشْتَرِي "؟ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ، سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ. لَفْظُ عَارِمٍ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی نے اپنے جو غلام تھے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیے، اس کے پاس کوئی اور مال بھی نہ تھا، یہ خبر نبی ﷺ کو ملی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون مجھ سے خریدے گا؟“ تو سیدنا نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ۸۰۰ درہم کا خرید لیا تو آپ ﷺ نے اس کی قیمت مالک کو دے دی؛ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ قبطی غلام پہلے سال ہی وفات پا گیا۔