السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21494
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ ذَكَرَ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُونَ: " الْوَلَاءُ لِلْأَكْبَرِ "، قَالَ: - يَعْنِي: بِالْأَكْبَرِ أَقْرَبَهُمْ بِأَبٍ..حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ولاء بڑے مرد کے لیے ہے۔