السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : الولاء للكبر من عصبة المعتق، وهو الأقرب فالأقرب منهم بالمعتق، إذا كان قد مات المعتق. باب: آزاد کرنے والے کے عصبہ (رشتہ داروں) میں سے جو سب سے بڑا (اور قریبی) ہو ولاء اسی کا حق ہے، یعنی آزاد کرنے والے کے رشتہ داروں میں سے جو اس کے زیادہ قریب ہو پھر جو اس کے زیادہ قریب ہو، جبکہ آزاد کرنے والا فوت ہو چکا ہو۔
حدیث نمبر: 21493
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا: " الْوَلَاءُ لِلْكُبْرِ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر، سیدنا علی اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ ولاء بڑے کے لیے ہوتی ہے۔