السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من استحب من السلف رضي الله عنهم التنزه عن ميراث السائبة وإن كان مباحا. باب: سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جس نے سائبہ کی وراثت سے بچنے کو مستحب سمجھا، اگرچہ یہ مباح ہے۔
حدیث نمبر: 21485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنبأ يَزِيدُ، أنبأ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، أُتِيَ بِمَالِ مَوْلًى كَانَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا كُنَّا أَعْتَقْنَاهُ سَائِبَةً "، فَأَمَرَ أَنْ يُشْتَرَى بِهِ رِقَابٌ فَيُلْحِقُوهَا بِهِ، أَيْ يُعْتِقُوهَا..حافظ ثناء اللہ
بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے غلام کا مال لایا گیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم نے ان کو «سَائِبَة» آزاد کیا ہے، پھر انہوں نے حکم دیا کہ اس کے غلام خرید کر آزاد کر دو۔