السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من استحب من السلف رضي الله عنهم التنزه عن ميراث السائبة وإن كان مباحا. باب: سلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جس نے سائبہ کی وراثت سے بچنے کو مستحب سمجھا، اگرچہ یہ مباح ہے۔
حدیث نمبر: 21484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ - يَعْنِي: بِقَوْلِهِ لِيَوْمِهِمَا: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْيَوْمَ الَّذِي كَانَ أَعْتَقَ فِيهِ سَائِبَتَهُ، وَتَصَدَّقَ بِصَدَقَتِهِ لَهُ، يَقُولُ: فَلَا يَرْجِعُ إِلَى الِانْتِفَاعِ بِشَيْءٍ مِنْهُمَا بَعْدَ ذَلِكَ فِي الدُّنْيَا، وَذَلِكَ كَالرَّجُلِ يُعْتِقُ عَبْدَهُ سَائِبَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ، وَيَتْرُكُ مَالًا لَا وَارِثَ لَهُ إِلَّا الَّذِي أَعْتَقَهُ، يَقُولُ: فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْئًا، وَلَا يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ شَيْئًا، إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ. وَكَذَلِكَ يُرْوَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَالثَّوَابِ، لَيْسَ عَلَى أَنَّهُ مُحَرَّمٌ..حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «لِيَوْمِهِمَا» ”ان دونوں کے دن کے لیے“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن سائبہ کو آزاد کیا اور صدقہ کیا، دوبارہ دنیا میں ان سے فائدہ نہیں اٹھایا، وہ بندہ جو اپنے سائبہ غلام کو آزاد کرتا ہے، پھر وہ آزاد کردہ فوت ہو جاتا ہے اور مال چھوڑتا ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہوتا سوائے آزاد کرنے والے کے، فرماتے ہیں: اس کی میراث میں کمی نہ ہو گی اور نہ ہی سائبہ کی میراث میں کمی ہو گی، لیکن اسے اس جیسوں میں تقسیم کر دیا جائے۔