❮
❯
حدیث نمبر: 21484
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ - يَعْنِي: بِقَوْلِهِ لِيَوْمِهِمَا: يَوْمَ الْقِيَامَةِ، الْيَوْمَ الَّذِي كَانَ أَعْتَقَ فِيهِ سَائِبَتَهُ، وَتَصَدَّقَ بِصَدَقَتِهِ لَهُ، يَقُولُ: فَلَا يَرْجِعُ إِلَى الِانْتِفَاعِ بِشَيْءٍ مِنْهُمَا بَعْدَ ذَلِكَ فِي الدُّنْيَا، وَذَلِكَ كَالرَّجُلِ يُعْتِقُ عَبْدَهُ سَائِبَةً ثُمَّ يَمُوتُ الْمُعْتَقُ، وَيَتْرُكُ مَالًا لَا وَارِثَ لَهُ إِلَّا الَّذِي أَعْتَقَهُ، يَقُولُ: فَلَيْسَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِهِ شَيْئًا، وَلَا يَرْزَأَ مِنْ مِيرَاثِ السَّائِبَةِ شَيْئًا، إِلَّا أَنْ يَجْعَلَهُ فِي مِثْلِهِ. وَكَذَلِكَ يُرْوَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَإِنَّمَا هَذَا مِنْهُمْ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ وَالثَّوَابِ، لَيْسَ عَلَى أَنَّهُ مُحَرَّمٌ..
حافظ ثناء اللہ

ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «لِيَوْمِهِمَا» ”ان دونوں کے دن کے لیے“ سے مراد قیامت کا دن ہے، جس دن کے لیے اس نے سائبہ کو آزاد کیا اور صدقہ کیا، یعنی وہ دوبارہ دنیا میں ان سے فائدہ نہ اٹھائے، جیسے وہ بندہ جو اپنے غلام کو سائبہ بنا کر آزاد کرتا ہے، پھر وہ آزاد کردہ فوت ہو جاتا ہے اور مال چھوڑتا ہے جس کا کوئی وارث نہیں ہوتا سوائے آزاد کرنے والے کے، فرماتے ہیں: اسے اس کی میراث میں سے کچھ نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی سائبہ کی میراث میں سے کچھ لے، سوائے اس کے کہ اسے اس جیسوں میں لگا دے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، اور ان حضرات کا یہ عمل فضیلت اور ثواب کی بنا پر ہے، اس وجہ سے نہیں کہ یہ حرام ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21484
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»