حدیث نمبر: 21486
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُقْبَةَ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ جَاءَهُ رَجُلٌ بِحَقِيبَةِ وَرِقٍ، فَقَالُوا: إِنَّ فُلَانًا مَوْلَى أَبِيكَ تُوُفِّيَ، وَإِنَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَدْفَعَ هَذِهِ إِلَيْكَ، ⦗٥٠٩⦘ قَالَ: " وَيْحَهُ، أَلَا أَنْفَقَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ "، فَجَاءَهُ رَسُولُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ أَنِ ابْعَثْ إِلِيَّ بِمِيرَاثِهِ مِنْ مَوْلَى أَبِيهِ، فَبَعَثَهُ إِلَيْهِ كُلَّهُ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَرِثُ السَّائِبَةَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْتَقَهُ سَائِبَةً. . قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " هَذَا إِنْ صَحَّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَاهُ حَرَامًا، إِذْ لَوْ رَآهُ حَرَامًا لَمَنَعَهُ مِنْ أَخِيهِ عَاصِمٍ، كَمَا امْتَنَعَ مِنْهُ، وَلَكِنَّهُ اسْتَحَبَّ التَّنَزُّهَ عَنْهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ

زیاد بن نعیم بیان کرتے ہیں کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تشریف فرما تھے، ایک آدمی چاندی کا بیگ لے کر آیا، اس نے کہا: آپ کے باپ کا غلام فوت ہو گیا ہے۔ اس نے مجھے کہا تھا: یہ ان کو واپس کر دینا۔ انہوں نے فرمایا: افسوس۔ فرمانے لگے: میں نے ان کو اللہ کے راستے میں خرچ کیا تھا، اتنی دیر میں عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کا قاصد آ گیا کہ میرے والد کے غلام کی وراثت مجھے دے دو۔ ان کو تمام وراثت دے دی، لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما بذاتِ خود سائبہ کی وراثت نہ لیتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو سائبہ آزاد کیا تھا۔
شیخ فرماتے ہیں: اگر یہ صحیح ہے تو یہ حرام نہ تھی، اگر اس کو حرام خیال کرتے تو اپنے بھائی عاصم کو ضرور منع کرتے، جیسے بذاتِ خود رک گئے، لیکن بچنا مستحب ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الولاء / حدیث: 21486
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»