السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من والى رجلا أو أسلم على يديه باب: جس نے کسی شخص سے ولاء کا رشتہ قائم کیا یا اس کے ہاتھ پر اسلام لایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عِمْرَانُ هُوَ ابْنُ مُوسَى، ثنا عُثْمَانُ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اشْتَرِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ وَكِيعٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِأَنَّ النَّسَبَ شَبِيهٌ بِالْوَلَاءِ، وَالْوَلَاءَ شَبِيهٌ بِالنَّسَبِ، وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا لَا أَبًا لَهُ يُعْرَفُ، سَأَلَ رَجُلًا أَنْ يَنْسِبَهُ إِلَى نَفْسِهِ وَرَضِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ لَهُ ابْنًا أَبَدًا، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ "، وَكَذَلِكَ إِذَا لَمْ يُعْتِقِ ⦗٤٩٩⦘ الرَّجُلُ رَجُلًا لَمْ يَجُزْ أَنْ يَكُونَ مَنْسُوبًا إِلَيْهِ بِالْوَلَاءِ، فَيُدْخِلَ عَلَى عَاقِلَتِهِ الْمَظْلَمَةَ، فِي عْقْلِهِمْ عَنْهُ، وَيْنِسبَ إِلَى نَفْسِهِ وَلَاءَ مَنْ لَمْ يُعْتِقْ، وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، قَالَ، وَبَيَّنَ فِي قَوْلِهِ: " إِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ "، أَنَّهُ لَا يَكُونُ الْوَلَاءُ إِلَّا لِمَنْ أَعْتَقَ..اسود رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے بریرہ کو خریدنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے ولاء کی شرط رکھی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تو خرید! ولاء اس کا حق ہے جس نے قیمت ادا کی اور نعمت کا والی بنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نسب ولاء کے مشابہ ہے اور ولاء نسب کے مشابہ ہے۔ اگر کوئی آدمی جس کا باپ معروف نہیں، کسی آدمی سے سوال کرے کہ وہ اسے اپنی طرف منسوب کر لے اور وہ آدمی اس پر راضی ہو جائے، تب بھی یہ کبھی جائز نہیں کہ وہ اس کا بیٹا بن جائے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کے لیے ہے،“ اسی طرح جب کوئی مرد کسی کو آزاد نہ کرے تو اس کی جانب ولاء کی نسبت ہونا جائز نہیں، وگرنہ وہ اپنے عاقلہ پر اس کی دیت ادا کرنے کا ظلم ڈالے گا اور ایسے شخص کی ولاء اپنی طرف منسوب کرے گا جسے اس نے آزاد نہیں کیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ولاء اس کے لیے ہے جس نے آزاد کیا،“ اور آپ ﷺ نے اپنے فرمان: ”ولاء تو صرف اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا“ سے واضح کر دیا کہ ولاء صرف اسی کی ہے جس نے آزاد کیا۔