السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : ما يستدل به على نسخ آية المعاقدة. باب: ان دلائل کا بیان جن سے آیتِ معاقدہ (معاہدے والی آیت) کے منسوخ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، ثنا إِدْرِيسُ الْأَوْدِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣] قَالَ: " كَانَ الْمُهَاجِرُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يُوَرِّثُونَ الْأَنْصَارَ دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ، لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوْالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ} [النساء: ٣٣] فَنُسِخَتْ، ثُمَّ قَالَ: {وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ} [النساء: ٣٣]، مِنَ النَّصْرِ وَالنَّصِيحَةِ وَالرِّفَادَةِ وَيُوصِي لَهُمْ وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.سعید بن جبیر، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“
جب مہاجرین مدینہ آئے تو انصار نے ان کو اپنا وارث صرف نبی ﷺ کے بھائی چارے کی وجہ سے بنا دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [سورة النساء: 33] ”جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں، ہم نے ہر ایک کے حق مقرر کر دیے ہیں“ یہ منسوخ کی گئی، پھر فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”جن لوگوں سے تم عہد کر چکے ہو ان کو بھی ان کا حصہ دو۔“ مدد کرنا، نصیحت اور وصیت کرنا اور میراث ختم ہو جائے گی۔
(ب) عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] آدمی دوسرے کا حلیف ہے، دونوں کے درمیان نسبی تعلق بھی نہیں، ایک دوسرے کا وارث ہو تو سورۂ انفال نے اس کو منسوخ کر دیا: ﴿وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ﴾ [سورة الأنفال: 75] ”رشتہ دار خدا کے حکم سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔“