السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة الصبح باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ثنا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ ⦗٦٦٩⦘ جُنْدُبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عُمَرَ الْهُذَلِيِّ أَنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ: كَتَبْتُ إِلَيْكَ فِي الصَّلَاةِ وَأَحَقَّ مَا تَعَاهُدَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ دِينِهِمْ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي حَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ مَا حَفِظْتُ وَنَسِيتُ مِنْ ذَلِكَ مَا نَسِيتُ فَصَلَّى الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ حَلَّ فِطْرُ الصَّائِمِ، وَالْعِشَاءَ مَا لَمْ يَخَفْ رُقَادَ النَّاسِ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ وَأَطَالَ فِيهَا الْقِرَاءَةَ ".حارث بن عمرو ہذلی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ میں تمہیں نماز کے بارے میں لکھ رہا ہوں اور یہ تمام شرعی احکامات میں سب سے زیادہ اہم ہے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے تھے۔ اس میں سے مجھے جو یاد رہا وہ یاد رہا اور جو بھول گیا وہ بھول گیا۔ آپ نے ظہر کی نماز دوپہر کے وقت پڑھائی اور عصر کی نماز سورج کے صاف اور روشن ہوتے ہوئے ادا فرمائی اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کی جب روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور عشاء کی نماز اس وقت تک ادا کرتے جب تک لوگوں کے سو جانے کا ڈر نہ ہو اور صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کرتے تھے اور اس میں لمبی قرأت فرماتے تھے۔