السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة الصبح باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2146
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى ثنا الْحُمَيْدِيُّ ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ حَيَّانَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ يَقُولُ: " صَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ صَلَاةَ الْفَجْرِ وَلَوْ أَنَّ ابْنِي مِنِّي ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ لَمْ أَعْرِفْهُ إِلَّا أَنْ يَتَكَلَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ فجر کی نماز (ایسے وقت میں) ادا کی کہ اگر میرا بیٹا مجھ سے تین ہاتھ کے فاصلے پر بھی ہو تو جب تک وہ نہ بولے میں اس کو (اندھیرے کی وجہ سے) پہچان نہیں سکتا۔