السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة الصبح باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ أَخْبَرَنِي أَبِي: قَالَ سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ يَقُولُ: ثنا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ حَدَّثَنِي مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَصَلَّى بِغَلَسٍ وَكَانَ يُسْفِرُ بِهَا فَلَمَّا سَلَّمَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ وَهُوَ إِلَى جَانِبِي قَالَ: " هَذِهِ صَلَاتُنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَلَمَّا قُتِلَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ " وَفِي كِتَابِ الْعِلَلِ لِأَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدِيثُ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ نَهِيكِ بْنِ يَرِيمَ فِي التَّغْلِيسِ بِالْفَجْرِ حَدِيثٌ حَسَنٌ.(ا) مغیث بن سمی سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ انھوں نے نماز اندھیرے میں پڑھی تھی اور وہ اس کو روشنی میں پڑھتے تھے۔ جب انھوں نے سلام پھیرا تو میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ یہ کیسی نماز ہے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما میرے ساتھ تھے۔ انھوں نے فرمایا: ”یہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی نماز تھی۔“ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو عثمان رضی اللہ عنہ اس کو روشن کر کے پڑھنے لگے۔
(ب) ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کتاب العلل میں فرماتے ہیں کہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اوزاعی کی حدیث جو نہیک بن یریم سے منقول ہے یعنی فجر کو اندھیرے میں ادا کرنے کے بارے میں، یہ حدیث حسن ہے۔