السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: صفة غسلهما باب: دونوں ہاتھوں کو دھونے کے طریقے کا بیان
حدیث نمبر: 214
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أنا عِيسَى، ثنا عُبَيْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ، دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا إِلَى الْكُوعَيْنِ. قَالَ: ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا، ثُمَّ ذَكَرَ الْوُضُوءَ ثَلَاثًا. قَالَ: ومَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ، وَقَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مِثْلَ مَا رَأَيْتُمُونِي تَوَضَّأْتُ "، وَسَاقَ الْحَدِيثَ. قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا الْغُسْلُ عِنْدَنَا سُنَّةٌ وَاخْتِيَارٌ لَيْسَ بِوَاجِبٍ وَبِهِ قَالَ عَطَاءٌ، وَابْنُ سِيرِينَ، وَأَصْحَابُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پانی منگوایا اور وضو کیا، آپ نے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر ان دونوں کو گٹوں تک دھویا۔ پھر کلی کی اور ناک میں تین مرتبہ پانی چڑھایا، پھر وضو میں تین مرتبہ اعضاء دھونے کا ذکر کیا۔ پھر اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پاؤں کو دھویا۔ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: اعضاء کو اس طرح دھونا سنت یا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔ یہی موقف عطاء، ابن سیرین اور اصحابِ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ہے۔