السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: صفة غسلهما باب: دونوں ہاتھوں کو دھونے کے طریقے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: صَلَّى عَلِيٌّ الْفَجْرَ، ثُمَّ دَخَلَ الرَّحَبَةَ فَدَخَلْنَا مَعَهُ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ، فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، فَأَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَمِينِهِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى، ثُمَّ غَسَلَهُمَا جَمِيعًا، ثُمَّ أَخَذَ الْإِنَاءَ بِيَمِينِهِ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى فَغَسَلَهُمَا جَمِيعًا، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي آخِرِهِ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى وُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا كَانَ طُهُورَهُ ".سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز پڑھی، پھر آپ کھلی جگہ تشریف لے گئے، ہم بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، آپ نے پانی منگوایا تو ایک بچہ پانی والا برتن لے کر آیا۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے برتن کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر ان دونوں کو اکٹھا دھویا، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا۔ پھر ان دونوں کو اکٹھا دھویا اور اپنی ہتھیلیوں کو برتن میں ڈالنے سے پہلے تین مرتبہ دھویا۔۔۔ اس کے آخر میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس شخص کو اچھا لگتا ہو کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا وضو دیکھے تو یہ آپ ﷺ کا وضو ہے۔“