السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : ما جاء فيمن أعتق جارية حبلى أو أعتق حملها. باب: جس نے کسی حاملہ لونڈی کو آزاد کیا یا اس کے حمل کو آزاد کیا، اس کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21367
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَعَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي رَجُلٍ قَالَ لِأَمَةٍ: أَنْتِ حُرَّةٌ إِلَّا مَا فِي بَطْنِكِ، قَالَا: " هِيَ وَمَا فِي بَطْنِهَا حُرٌّ، وَلَيْسَ لَهُ اسْتِثْنَاءٌ " وَقَالَ مَعْمَرٌ: حَدَّثَنِي مَنْ سَأَلَ الْحَكَمَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت زہری اور حضرت حسن رحمہما اللہ ایک ایسے آدمی کے متعلق فرماتے ہیں جس نے اپنی لونڈی سے کہا: تو آزاد ہے، تیرا حمل نہیں، دونوں فرماتے ہیں: لونڈی اور اس کا حمل دونوں آزاد ہیں، اس میں استثناء نہیں ہے۔ معمر کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا جس نے حکم سے پوچھا تو انہوں نے بھی ایسا ہی فرمایا۔