السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : ما جاء فيمن أعتق جارية حبلى أو أعتق حملها. باب: جس نے کسی حاملہ لونڈی کو آزاد کیا یا اس کے حمل کو آزاد کیا، اس کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21368
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: حُرٌّ تَزَوَّجَ أَمَةً لِي، فَحَمَلَتْ مِنْهُ، فَأَعْتَقْتُ وَلَدَهَا فِي بَطْنِهَا، لِمَنْ وَلَاؤُهُ؟ قَالَ: " لِلَّذِي أَعْتَقَهُ، لَكِنَّ مِيرَاثَهُ لِأَبِيهِ. وَهَذَا لِأَنَّ النَّسِيبَ يَتَقَدَّمُ الْمَوْلَى فِي الْمِيرَاثِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ آزاد آدمی نے لونڈی سے شادی کی، وہ حاملہ ہو گئی، میں نے اس کے پیٹ کے بچے کو آزاد کر دیا، تو ولاء کس کی ہو گی؟ فرمایا: اس کے لیے جس نے اس کو آزاد کیا ہے، لیکن وراثت اس کے باپ کی ہو گی، کیونکہ نسب ولاء سے مقدم ہوتا ہے۔