السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ ثنا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: جِئْتُكَ مِنْ عِنْدَ رَجُلٍ يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ: وَسَأُحَدِّثُكَ عَنْ عَبْدِ اللهِ إِنَّا سَمَرْنَا لَيْلَةً فِي بَيْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي بَعْضِ مَا يَكُونُ مِنْ حَاجَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ بِمَعْنَاهُ وَفِي آخِرِهِ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَطَّارِ لِلْأَعْمَشِ: أَلَيْسَ قَالَ خَيْثَمَةُ أَنَّ اسْمَ الرَّجُلِ قَيْسُ بْنُ مَرْوَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ يُرِيدُ الرَّجُلَ الَّذِي جَاءَ إِلَى عُمَرَ ⦗٦٦٥⦘ وَهَذَا الْحَدِيثُ لَمْ يَسْمَعْهُ عَلْقَمَةُ مِنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ إِنَّمَا رَوَاهُ عَنِ الْقَرْثَعِ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ.حضرت علقمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے کہا کہ میں ایک ایسے آدمی کے پاس سے آرہا ہوں جو مصاحف کی زبانی املا کرواتا ہے، پھر طویل حدیث ذکر کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں تجھے عبداللہ کے بارے بتاتا ہوں۔ ایک رات ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر نبی کریم ﷺ کے کسی کام کے سلسلے میں گفتگو کر رہے تھے۔۔۔ پھر مکمل حدیث اسی طرح ذکر کی۔
(ب) اس کے آخر میں یہ بھی ہے کہ محمد عطار نے اعمش سے کہا تھا کہ کیا خیثمہ نے یہ نہیں کہا تھا کہ اس آدمی کا نام (جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تھا) قیس بن مروان نہیں ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، ان کی مراد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے والا آدمی تھا۔