السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: كراهية النوم قبل العشاء حتى يتأخر عن وقتها وكراهية الحديث بعدها في غير خير باب: عشاء سے پہلے سونے کی کراہت یہاں تک کہ وہ اپنے وقت سے مؤخر ہو جائے اور عشاء کے بعد بھلائی کے علاوہ بات چیت کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 2131
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ثنا عَفَّانُ ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ ثنا إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ ثنا الْقَرْثَعُ عَنْ قَيْسٍ أَوِ ابْنِ قَيْسٍ رَجُلٍ مِنْ جُعْفَى، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقْرَأُ فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ السَّمَرِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے اور وہ (قرآن کی) تلاوت کر رہے تھے، میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا۔۔۔ پھر مکمل قصہ ذکر کیا، مگر انہوں نے عشاء کے بعد باتیں کرنے کا ذکر نہیں کیا۔