حدیث نمبر: 2129
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ جِئْتُ مِنَ الْكُوفَةِ وَتَرَكْتُ بِهَا رَجُلًا يُمْلِي الْمَصَاحِفَ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ قَالَ: فَغَضِبَ عُمَرُ وَانْتَفَخَ حَتَّى كَادَ يَمْلَأُ مَا بَيْنَ شُعْبَتَيِ الرَّجُلِ ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ مَنْ هُوَ؟ قَالَ: عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَمَا زَالَ يُطْفَأُ وَيَسِيرُ الْغَضَبُ حَتَّى عَادَ إِلَى حَالِهِ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ وَاللهِ مَا أَعْلَمُ بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ هُوَ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ ذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ يَسْمُرُ فِي الْأَمْرِ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ عِنْدَ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَّهُ سَمَرَ عِنْدَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَأَنَا مَعَهُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا نَمْشِي مَعَهُ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَاءَتَهُ فَلَمَّا أَعْيَانَا أَنْ نَعْرِفَ مَنِ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ " ثُمَّ جَلَسَ الرَّجُلُ يَدْعُو فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُ: " سَلَ تُعْطَهْ " قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَقُلْتُ: لَأَغْدُوَنَّ إِلَيْهِ فَلَأُبَشِّرَنَّهُ قَالَ: فَغَدَوْتُ إِلَيْهِ لِأُبَشِّرَهُ فَوَجَدْتُ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَنِي إِلَيْهِ فَبَشَّرَهُ فَوَاللهِ مَا سَابَقْتُهُ إِلَى خَيْرِ قَطُّ إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ وَفِي ذَلِكَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ رِوَايَةَ السَّمَرِ مِنْ عُمَرَ لَا مِنْ عَبْدِ اللهِ فِي رِوَايَةِ عَلْقَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عرفہ کے مقام پر ایک آدمی آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! میں کوفہ سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور وہاں میں ایک ایسے آدمی سے ملا ہوں جو مصاحف کو زبانی املاء کرواتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے حتیٰ کہ آپ کی سانس پھول گئی، قریب تھا کہ وہ اس کو لات مار دیتے۔ پھر کہنے لگے: تیرا ناس ہو، وہ ہے کون؟ اس نے کہا: عبداللہ بن مسعود۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (یہ سن کر) بجھ سے گئے اور آپ کا غصہ ختم ہو گیا حتیٰ کہ اپنی پہلے والی حالت میں لوٹ آئے۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی باقی ہو جو اس کام کا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے زیادہ حق دار ہو، میں تجھے ان کے بارے میں بتاتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ہاں مسلمانوں کے معاملات کے بارے میں رات گئے تک گفتگو کرتے رہتے تھے۔ ایک دن آپ ﷺ ان کے ہاں عشاء کے بعد باتیں کر رہے تھے اور اتفاقاً میں بھی وہاں موجود تھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ نکل پڑے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں کھڑا نماز ادا کر رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کی قراءت سننے لگ گئے۔ پھر جب ہم نے غور کیا کہ ہم اس آدمی کو پہچان لیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو یہ پسند ہو کہ وہ قرآن کو پست آواز میں پڑھے جس طرح نازل ہوا تو وہ ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) کی قراءت کے موافق پڑھے۔“ پھر وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما) بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ انہیں کہنے لگے: ”تو جو سوال کر، تجھے عطا کیا جائے گا۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میں صبح ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے پاس جا کر انہیں خوشخبری دوں گا۔ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ صبح میں انہیں بشارت دینے گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما مجھ سے سبقت لے گئے ہیں اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہما کو بشارت بھی دے دی۔ اللہ کی قسم! میں کبھی بھی کسی نیکی میں ابوبکر رضی اللہ عنہما سے پہل نہیں کر سکا مگر وہ ہمیشہ مجھ سے سبقت لے گئے۔
اس روایت کو اعمش سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور اس میں دلیل ہے کہ رات کو باتیں کرنے والی روایت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے نہ کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے جو علقمہ نے نقل کی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2129
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد 1/25»