حدیث نمبر: 21264
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَسْلَمَ الْمِنْقَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: بَاعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَارِيَةً كَانَ يَقَعُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَبْرِئَهَا، فَظَهَرَ بِهَا حَمْلٌ عِنْدَ الْمُشْتَرِي، فَخَاصَمُوهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: فَدَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَيْهِ الْقَافَةِ، فَنَظَرُوا إِلَيْهِ، فَأَلْحَقُوهُ بِهِ. . وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَكُنْتَ تَقَعُ عَلَيْهَا؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَبِعْتَهَا قَبْلَ أَنْ تَسْتَبْرِئَهَا؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا كُنْتَ بِخَلِيقٍ "، قَالَ: فَدَعَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْقَافَةَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ایک لونڈی فروخت کی۔ وہ استبراء رحم سے پہلے اس سے ہمبستری کرتے تھے تو حمل خریدار کے پاس جا کر ظاہر ہوا تو جھگڑا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا، اس نے دیکھ کر ان کے ساتھ ملا دیا۔ ایک دوسری جگہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا آپ اس سے ہمبستری کرتے تھے؟ کہتے ہیں: ہاں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے استبراء رحم سے پہلے فروخت کر دیا؟ کہنے لگے: ہاں۔ کہتے ہیں: تو پیدا کرنے والا نہ تھا تو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21264
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»