السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: القافة ودعوى الولد. باب: قیافہ شناس اور بچے کی ولدیت کے دعوے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَلِيطُ أَوْلَادَ الْجَاهِلِيَّةِ بِمَنِ ادَّعَاهُمْ فِي الْإِسْلَامِ، ⦗٤٤٥⦘ قَالَ سُلَيْمَانُ: فَأَتَى رَجُلَانِ كِلَاهُمَا يَدَّعِي وَلَدَ امْرَأَةٍ، فَدَعَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِفًا فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا، فَقَالَ الْقَائِفُ: لَقَدِ اشْتَرَكَا فِيهِ، فَضَرَبَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ قَالَ لِلْمَرْأَةِ: أَخْبِرِينِي خَبَرَكِ، فَقَالَتْ: كَانَ هَذَا لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ يَأْتِيهَا وَهِيَ فِي إِبِلِ أَهْلِهَا، فَلَا يُفَارِقُهَا حَتَّى يَظُنَّ أَنْ قَدِ اسْتَمَرَّ بِهَا حَمَلٌ، ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهَا فَأُهْرِيقَتْ دَمًا، ثُمَّ خَلَفَ هَذَا - تَعْنِي الْآخَرَ - فَلَا أَدْرِي مِنْ أَيِّهِمَا هُوَ؟ فَكَبَّرَ الْقَائِفُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْغُلَامِ: " وَالِ أَيَّهُمَا شِئْتَ ".سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جاہلیت کے دور کے جس بچے کا اسلام میں دعویٰ کیا جاتا، اسے اس کے والدین کے ساتھ ملا دیتے۔ سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک عورت کے بچے کا دعویٰ کر رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قیافہ شناس کو بلایا، اس نے دونوں کو دیکھ کر بتایا کہ یہ دونوں ہی اس میں شریک ہیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو کوڑے مارے اور عورت سے کہا: آپ مجھے صحیح حقیقت بتائیں، وہ کہنے لگی: یہ آدمی میرے پاس آتا تھا، میں اپنے گھر والوں کے اونٹوں میں ہوتی تھی، جب اس نے حمل کا پختہ خیال اپنے ذہن میں بٹھا لیا، پھر مجھ سے جدا ہو گیا، اس کے بعد دوسرا آنا شروع ہو گیا، مجھے معلوم نہیں کہ دونوں میں سے کس کا ہے، تو قیافہ شناس نے تکبیر کہی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: جس کے ساتھ چاہو چلے جاؤ۔