❮
❯
حدیث نمبر: 21265
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اشْتَرَكَا فِي طُهْرِ امْرَأَةٍ، فَوَلَدَتْ وَلَدًا، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَدَعَا لَهُمْ ثَلَاثَةً مِنَ الْقَافَةِ، فَدَعَا بِتُرَابٍ، فَوَطِئَ فِيهِ الرَّجُلَانِ وَالْغُلَامُ، ثُمَّ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: انْظُرْ، فَنَظَرَ، فَاسْتَقْبَلَ وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ، ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ: " بَلْ أَسِرَّ "، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَأَجْلَسَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْآخَرِ: انْظُرْ، فَنَظَرَ وَاسْتَقْبَلَ، وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ: " بَلْ أَسِرَّ "، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَأَجْلَسَهُ ثُمَّ قَالَ لِلثَّالِثِ: انْظُرْ، فَنَظَرَ فَاسْتَقْبَلَ، وَاسْتَعْرَضَ وَاسْتَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ: أُسِرُّ أَمْ أُعْلِنُ؟ فَقَالَ: " بَلْ أَعْلِنْ "، فَقَالَ: لَقَدْ أَخَذَ الشَّبَهَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، فَمَا أَدْرِي لِأَيِّهِمَا هُوَ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّا نَقُوفُ الْآثَارَ "، ثَلَاثًا يَقُولُهَا، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَائِفًا، فَجَعَلَهُ لَهُمَا يَرِثَانِهِ وَيَرِثُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَتَدْرِي مَنْ عَصَبَتُهُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: الْبَاقِي مِنْهُمَا..
حافظ ثناء اللہ

سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک عورت کے ایک ہی طہر میں شریک ہوئے، اس نے بچہ جنم دیا تو وہ جھگڑا لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے تین قیافہ شناس منگوائے، اور مٹی منگوائی جس پر دونوں آدمی اور بچہ چلے، پھر ان میں سے ایک سے کہا: دیکھو، قیافہ شناس نے (نشانات کو) سامنے سے، پہلو سے اور پیچھے سے دیکھا، پھر کہا: آہستہ بتاؤں یا ظاہر کروں؟ فرمایا: آہستہ بتاؤ، اس نے کہا: مشابہت دونوں کے ساتھ ہے، مجھے معلوم نہیں کہ یہ کس کا ہے، پھر دوسرے نے دیکھا، اس نے بھی کہا: ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں؟ کہا گیا: پوشیدہ رکھو، (اس نے کہا:) مشابہت دونوں کے ساتھ ہے لیکن معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کس کا ہے، پھر تیسرے کو حکم ہوا: دیکھو، اس نے دیکھا اور پوچھا: ظاہر کروں یا پوشیدہ رکھوں؟ فرمایا: ظاہر کرو، اس نے کہا: مشابہت دونوں کے ساتھ ہے لیکن کس کا ہے پتا نہیں چلتا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین مرتبہ فرمایا: ہم (بھی) نشانات پہچانتے ہیں، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خود قیافہ شناس تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بچے کو ان دونوں کا وارث بنا دیا اور وہ اس کے وارث ہوں گے، سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: (کیا تم جانتے ہو) اس کے عصبات کون ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، فرمایا: ان دونوں میں سے جو باقی رہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21265
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»