السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل يجيء بشاهدين على رجل بحق فلا يمين عليه مع شاهديه. باب: وہ شخص جو کسی پر اپنے حق کے لیے دو گواہ لے آئے تو ان دو گواہوں کے ہوتے ہوئے اس پر کوئی قسم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ خَصْمَانِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ، فَقَالَ: أَرْضِي أَزْرَعُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " يَمِينُهُ " قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، إِنَّهُ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَحْلِفَ قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرٍ وَإِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ.علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس تھا۔ دو جھگڑا کرنے والے آئے، ایک نے کہا کہ دورِ جاہلیت میں اس نے میری زمین چھین لی تھی: 1 امرء القیس بن عابس اور 2 ربیعہ تھا۔ اس نے کہا: میری زمین ہے، میں کھیتی باڑی کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دوسرا قسم دے گا۔“ وہ کہنے لگا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اب صرف قسم ہی ہے“، جب وہ قسم کے لیے جانے لگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اس نے ظلم کے ساتھ مال ہڑپ کرنا چاہا تو اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“