السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الرجل يجيء بشاهدين على رجل بحق فلا يمين عليه مع شاهديه. باب: وہ شخص جو کسی پر اپنے حق کے لیے دو گواہ لے آئے تو ان دو گواہوں کے ہوتے ہوئے اس پر کوئی قسم نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ. قَالَ: ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا} [آل عمران: ٧٧] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ثُمَّ إِنَّ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ خَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَحَدَّثْنَاهُ بِمَا قَالَ، فَقَالَ: صَدَقَ، لَفِيَّ نَزَلَتْ، كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي شَيْءٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ "، فَقُلْتُ: إِنَّهُ إِذًا حَلَفَ، وَلَا يُبَالِي، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَسْتَحِقَّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ. ⦗٤٤١⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ وَقُتَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جو قسم اٹھا کر مال کا مستحق بنتا ہے اور وہ جھوٹا ہے تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوں گے۔“ پھر اس کی تصدیق اللہ نے نازل فرمائی: ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة آل عمران: 77] ”وہ لوگ جو اپنی قسموں اور اللہ کے عہد کے عوض تھوڑی قیمت وصول کرتے ہیں۔“
پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف آئے اور کہنے لگے: ابوعبدالرحمن نے کیا بیان کیا؟ جو انھوں نے بیان کیا ہم نے کہہ دیا، کہنے لگے: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان جھگڑا تھا۔ جب نبی ﷺ کے پاس گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”گواہ تیرے ذمہ یا اس سے قسم تم لے لو۔“ میں نے کہا: وہ قسم اٹھا دے گا، اس کو کوئی پروا نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قسم کی وجہ سے مال ہڑپ کرنا چاہا اور وہ جھوٹا ہوا تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہوگا۔“ اللہ نے اس کی تصدیق نازل کی، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت کی تلاوت فرمائی۔