السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : من قال: لا يرجح في الشهود بكثرة العدد باب: جس نے کہا: گواہوں کی کثرتِ تعداد کی وجہ سے ترجیح نہیں دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 21227
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُذَيْنَةَ إِلَى شُرَيْحٍ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَزْدِ ادَّعَوْا قِبَلَ نَاسٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: وَإِذَا غَدَا هَؤُلَاءِ بِبَيِّنَةٍ رَاحَ أُولَئِكَ بِأَكْثَرَ مِنْهُمْ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " لَسْتُ مِنَ التَّهَاتُرِ وَالتَّكَاثُرِ فِي شَيْءٍ، الدَّابَّةُ لِمَنْ هِيَ فِي أَيْدِيهِمْ إِذَا أَقَامُوا الْبَيِّنَةَ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن اذینہ نے قاضی شریح کو ازد کے کچھ لوگوں کے بارے میں خط لکھا، جنہوں نے بنو اسد کے کچھ لوگوں پر دعویٰ کیا تھا، کہ جب یہ صبح کے وقت گواہ لے کر آتے ہیں تو وہ شام کو ان سے زیادہ گواہ لے آتے ہیں۔ تو قاضی شریح نے انہیں جواب لکھا: مجھے گواہوں کے ایک دوسرے کو کاٹنے اور کثرت (کے مقابلے) سے کوئی سروکار نہیں۔ چوپایہ ان کے قبضہ میں رہے گا جب ان کے پاس گواہ ہوں گے۔