السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتنازعان شيئا في يد أحدهما، ويقيم كل واحد منهما على ذلك بينة باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز پر جھگڑیں جو ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو، اور ان میں سے ہر ایک اس پر گواہ (دلیل) پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَابْنِ عَوْنٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً، فَأَقَامَ أَحَدُهُمَا الْبَيِّنَةَ وَهِيَ فِي يَدِهِ أَنَّهُ نَتَجَهَا، وَأَقَامَ الْآخَرُ بَيِّنَةً أَنَّهَا دَابَّتُهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " النَّاتِجُ أَحَقُّ مِنَ الْعَارِفِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ان کے پاس ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے۔ ان میں سے ایک، جس کے قبضے میں چوپایہ تھا، اس نے گواہ پیش کیے کہ اس چوپائے نے اس کے ہاں جنم لیا ہے، اور دوسرے نے گواہ پیش کیے کہ یہ اس کا چوپایہ ہے جسے وہ پہچانتا ہے، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے گھر چوپائے نے جنم لیا وہ (محض) پہچاننے والے سے زیادہ حق دار ہے۔