السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتنازعان شيئا في يد أحدهما، ويقيم كل واحد منهما على ذلك بينة باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز پر جھگڑیں جو ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو، اور ان میں سے ہر ایک اس پر گواہ (دلیل) پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21225
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي دَابَّةٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا لَهُ، وَأَنَّهُ أَنْتَجَهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ: " هِيَ لِلَّذِي فِيُ يَدَيْهِ، النَّاتِجُ أَحَقُّ مِنَ الْعَارِفِ ".حافظ ثناء اللہ
ایوب، محمد سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک جانور کا جھگڑا لے کر قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے، ہر ایک کے پاس گواہی بھی تھی کہ اس نے ان کے ہاں جنم دیا ہے، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے بھی فیصلہ اس کے حق میں دیا جس کے قبضہ میں (وہ) تھا۔