حدیث نمبر: 21220
وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ، فِي قِصَّةِ الْحَضْرَمِيِّ وَالْكِنْدِيِّ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي، أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ. ⦗٤٣٣⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَنَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ

علقمہ بن وائل بن حجر حضرمی اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے حضرمی اور کندی کا قصہ روایت کرتے ہیں کہ حضرمی نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اس نے میرے باپ کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے“، کندی کہنے لگا: ”یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں، اس کا کوئی حق نہیں ہے“، رسول اللہ ﷺ نے حضرمی سے دریافت فرمایا: ”کیا تیرے پاس کوئی دلیل ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر تیرے لیے کندی کی قسم ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الدعوى والبينات / حدیث: 21220
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 139»