السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتداعيان شيئا في يد أحدهما، فيقيم الذي ليس في يده بينة بدعواه باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو، پھر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ چیز نہیں ہے، اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21221
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَحْمَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: " الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَوْلَى بِالْيَمِينِ، إِلَّا أَنْ تَقُومَ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فتح مکہ کے دن فرما رہے تھے کہ: ”مدعی علیہ قسم کا زیادہ حق دار ہے جب تک اس کے خلاف دلیل نہ مل جائے۔“