السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتداعيان شيئا في يد أحدهما، فيقيم الذي ليس في يده بينة بدعواه باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز کا دعویٰ کریں جو ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو، پھر وہ شخص جس کے قبضے میں وہ چیز نہیں ہے، اپنے دعوے پر گواہ پیش کر دے۔
حدیث نمبر: 21219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ وَكِيعٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ خُصُومَةٌ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَيَمِينُهُ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا تھا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چلو دوسرے کی قسم ہی سہی۔“