السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: المتداعيين يتنازعان المال وما يتنازعان فيه في أيديهما معا باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی مال پر جھگڑیں اور وہ متنازعہ مال ان دونوں کے قبضے میں ہو۔
حدیث نمبر: 21218
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ فَاسْتَحَبَّاهَا فَأَسْهِمْ بَيْنَهُمَا ". وَبِهَذَا اللَّفْظِ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَجَمَاعَةٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ: " إِذَا أُكْرِهَ الِاثْنَانِ عَلَى الْيَمِينِ وَاسْتَحَبَّاهَا، فَلْيَسْتَهِمَا عَلَيْهَا " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ: كَرِهَاهَا، أَوِ اسْتَحَبَّاهَا، فَفِي الْحَالَيْنِ جَمِيعًا يُقْرَعُ بَيْنَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر دو لوگوں کو قسم پر مجبور کیا جائے تو مستحب ہے کہ دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے۔“
(ب) احمد کی روایت میں ہے کہ جب دو آدمی قسم پر مجبور کیے جائیں تو مستحب ہے کہ دونوں کے درمیان قسم کے لیے قرعہ اندازی کی جائے، دونوں پسند کریں یا ناپسند۔
(ت) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں: ”دونوں قسم کو پسند کریں یا ناپسند، دونوں کے درمیان قرعہ اندازی کرلی جائے۔“