السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الرجلان يتنازعان المال، وما يتنازعان في يد أحدهما باب: دو آدمی کسی مال پر جھگڑیں اور متنازعہ مال ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو۔
حدیث نمبر: 21211
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: هِيَ لِي، وَقَالَ الْآخَرُ: هِيَ لِي حُزْتُهَا وَقَبَضْتُهَا، فَقَالَ فِيهَا: " الْيَمِينُ لِلَّذِي بِيَدِهِ الْأَرْضُ "، فَلَمَّا تَفَوَّهَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ: فَمَنْ تَرَكَهَا؟ قَالَ: " كَانَ لَهُ الْجَنَّةُ ".حافظ ثناء اللہ
عدی بن عدی اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی زمین کا جھگڑا لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے، ایک نے کہا: میری ہے، دوسرا کہنے لگا: میری ہے، کیونکہ میرے قبضے میں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”زمین جس کے قبضے میں ہے اس کے ذمے قسم ہے“، جب وہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرنے کے لیے قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے ملاقات کرے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوں گے“۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس کو چھوڑ دیا تو اس کے لیے جنت ہے“۔