السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الدعوى والبينات— دعوی اور گواہیوں کا بیان
باب: : الرجلان يتنازعان المال، وما يتنازعان في يد أحدهما باب: دو آدمی کسی مال پر جھگڑیں اور متنازعہ مال ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَهُوَ لِلَّذِي فِيُ يَدِهِ مَعَ يَمِينِهِ إِذَا لَمْ تَقُمْ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو وہ (چیز) اسی کی ہو گی جس کے قبضے میں ہے، اس کی قسم کے ساتھ، جبکہ ان دونوں میں سے کسی کے حق میں کوئی دلیل (گواہی) قائم نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ كَانَتْ لِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِيُ يَدِي، أَزْرَعُهَا، لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ "؟ قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ رَجُلٌ فَاجِرٌ لَيْسَ يُبَالِي مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، ⦗٤٣٠⦘ لَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِكَ "، فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، قَالَ: فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ عَلَى مَالٍ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَقِيَ اللهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَجَمَاعَةٍ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.سیدنا علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد (سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرموت اور کندہ قبیلے کے دو آدمی نبی ﷺ کے پاس آئے۔ حضرمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ کندی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میری زمین ہے، میں اس میں کھیتی باڑی کرتا ہوں اور اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرمی سے دریافت فرمایا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے حضرمی سے پوچھا: ”کیا آپ کے پاس دلیل ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کی جانب سے قسم ہے۔“ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ فاجر آدمی ہے، اس کو قسم کی کیا پروا، یہ کسی چیز سے نہیں بچتا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے یہی ہے۔“ وہ آدمی قسم اٹھانے کے لیے چلا، جب وہ واپس مڑا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس بندے نے قسم اٹھائی تاکہ وہ دوسرے کا مال ظلم کی وجہ سے کھا سکے، تو کل وہ اللہ رب العزت سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے منہ موڑنے والے ہوں گے۔“