السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2121
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتُوَيْهِ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا أَبُو الْيَمَانِ ثنا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ الرَّحَبِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ السَّكُونِيُّ صَاحِبُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: بَقِيَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعَتَمَةِ لَيْلَةً فَتَأَخَّرَ بِهَا حَتَّى ظَنَّ الظَّانُّ أَنْ قَدْ صَلَّى أَوْ لَيْسَ بِخَارِجٍ ثُمَّ إِنَّهُ خَرَجَ بَعْدُ فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ لَقَدْ ظَنَنَّا أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ أَوْ لَسْتَ بِخَارِجٍ فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِمُوا بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَإِنَّكُمْ قَدْ فُضِّلْتُمْ بِهَا عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ وَلَمْ يُصَلِّهَا أُمَّةٌ قَبْلَكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک رات عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے۔
آپ ﷺ کو تاخیر ہوگئی حتیٰ کہ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ شاید آپ نے نماز پڑھ لی ہے یا آپ اب تشریف نہیں لائیں گے۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو ایک شخص کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ آپ ضرور نماز ادا کر چکے ہوں گے یا آج آپ ﷺ تشریف نہیں لائیں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نماز کو تاخیر سے پڑھا کرو، کیونکہ تمہیں اس نماز کی وجہ سے سابقہ امتوں پر فضیلت دی گئی ہے اور تم سے پہلے کسی امت نے یہ نماز ادا نہیں کی“۔