السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2120
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أنبأ دَاوُدَ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ وَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا وَلَوْلَا كِبَرُ الْكَبِيرِ وَضَعْفُ الضَّعِيفِ - قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَذُو الْحَاجَةِ - لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَعَبْدُ الْوَارِثِ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ دَاوُدَ وَرَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ دَاوُدَ فَقَالَ: عَنْ جَابِرٍ بَدَلَ أَبِي سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک رات) عشا کی نماز میں آدھی رات تک تاخیر کی، پھر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور فرمایا: ”تم جب تک نماز کا انتظار کرتے ہو وہ وقت نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔“
”اگر بوڑھوں اور کمزوروں کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آدھی رات تک موخر کردیتا۔“ راوی کہتے ہیں: شاید آپ ﷺ نے حاجت مندوں کا ذکر بھی فرمایا۔