السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2122
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُسْتَحَبُّ تَأْخِيرَ الْعِشَاءِ وَيَقْرَأُ {وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ} [هود: ١١٤] ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عبید اللہ بن ابی یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ وہ عشاء کو تاخیر سے ادا کرنا پسند کرتے تھے اور یہ آیتِ کریمہ پڑھتے تھے: ﴿وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ﴾ [سورة هود: 114] (اور رات کی گھڑیوں میں)۔