السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من خرق أعراض الناس يسألهم أموالهم، وإذا لم يعطوه إياها شتمهم باب: جو شخص لوگوں کی عزتیں اچھال کر ان سے ان کا مال مانگے اور جب وہ اسے نہ دیں تو انہیں گالیاں دے۔
حدیث نمبر: 21150
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " ائْذَنُوا لَهُ، فَبِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ " أَوْ " بِئْسَ رَجُلُ الْعَشِيرَةِ "، فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْقَوْلَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْتَ لَهُ الَّذِي قُلْتَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ أَلَنْتَ لَهُ الْقَوْلَ قَالَ: " يَا عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ وَدَعَهُ " أَوْ " تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے اجازت طلب کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اجازت دے دو لیکن یہ قبیلہ کا بدترین آدمی ہے۔“ جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے نرم کلام کی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں: اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ نے اس کے بارے میں یوں کلام کی اور پھر اس سے نرم کلام کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عائشہ (رضی اللہ عنہا)! قیامت کے دن لوگوں میں سے برے مرتبہ والا وہ شخص ہوگا جس کو اس کی فحش گوئی کی وجہ سے چھوڑ دیا جائے گا۔“