السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ⦗٦٦١⦘ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُغِلَ عَنِ الصَّلَاةِ لَيْلَةً فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا ثُمَّ رَقَدْنَا ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا وَقَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ يَنْتَظِرُ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرَكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مَحْمُودٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی ﷺ کو نماز کا دھیان نہ رہا، آپ ﷺ گھر سے نہ نکلے اور ہم بیٹھے بیٹھے سوتے جاگتے رہے۔ آپ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین میں سے کوئی نہیں جو اس نماز کا انتظار کر رہا ہو۔“