السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ إِسْمَاعِيلَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي حَفْصٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعِشَاءَ الَّتِي يَقُولُهَا النَّاسُ الْعَتَمَةُ إِمَامًا وَخِلْوًا؟ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: أَعْتَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ الْعِشَاءَ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ، قَالَ عَطَاءٌ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شَقِّ رَأْسِهِ فَقَالَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ يُصَلُّوهَا كَذَلِكَ " قَالَ فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ كَمَا أَنْبَأَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ شَيْئًا مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ عَلَى فِرْقِ الرَّأْسِ ثُمَّ ضَمَّهَا يُمِرُّهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامُهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ اللِّحْيَةِ لَا يَقْصُرُ وَلَا يَبْطُشُ بِشَيْءٍ إِلَّا كَذَلِكَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَمْ ذَلِكَ أَخَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ عَطَاءٌ: فَأَحَبُّ إِلِيَّ أَنْ تُصَلِّيَهَا إِمَامًا وَخِلْوًا مُؤْخِرَةً كَمَا صَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَتَئِذٍ قَالَ: فَإِنْ شَقَّ عَلَيْكَ ذَلِكَ خِلْوًا أَوْ عَلَى النَّاسِ فِي الْجَمَاعَةِ وَأَنْتَ إِمَامُهُمْ فَصَلِّهَا وَسْطَةً لَا مُعَجَّلَةً وَلَا مُؤْخِرَةً رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ هَكَذَا وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.عبدالرزاق فرماتے ہیں: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہ میں نے عطا سے عرض کیا: آپ کے نزدیک عشاء کی نماز ادا کرنے کے لیے کون سا وقت زیادہ بہتر ہے؟ وہ فرمانے لگے: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے ایک رات عشاء کی نماز میں تاخیر کی، حتیٰ کہ لوگ سو گئے پھر بیدار ہو گئے پھر دوبارہ سو گئے۔ جب بیدار ہوئے تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: نماز کا وقت جا رہا ہے۔ عطا کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر اللہ کے نبی ﷺ تشریف لائے۔ یہ منظر اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا اور آپ ﷺ اپنے ہاتھ کو سر کی ایک طرف رکھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا ڈر نہ ہوتا تو میں انھیں اسی طرح (اس وقت میں) نماز پڑھنے کا حکم دیتا۔“ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطا سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سر مبارک پر کس طرح رکھا تھا؟ تو عطا نے مجھے سمجھانے کی غرض سے اپنی انگلیوں کے درمیان کچھ فاصلہ کیا یعنی انگلیاں کشادہ کر لیں، پھر انگلیوں کے کناروں کو سر میں مانگ پر رکھا پھر انگلیوں کو ملا کر انھیں اسی طرح سر پر پھیرنے لگے حتیٰ کہ ان کا انگوٹھا چہرے کی طرف والی کان کی لو سے ٹکرایا۔
پھر کنپٹی پر اور داڑھی کے کنارے پر ہاتھ پھیرا۔ وہ نہ کمی کر رہے تھے اور نہ زیادتی۔ میں نے عطا سے پوچھا: اس رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز کتنی دیر تک مؤخر کی تھی؟ انھوں نے فرمایا: میں نہیں جانتا، پھر فرمانے لگے: میرے نزدیک زیادہ محبوب یہ ہے کہ تو اس کو باجماعت یا اکیلے پڑھے تو تاخیر کر کے پڑھ جیسا کہ اس رات رسول اللہ ﷺ نے پڑھائی تھی۔ اگر تجھ پر اکیلے یا جماعت کے ساتھ لوگوں پر گراں گزرے اور تو ان کا امام ہو تو ان کو درمیانے وقت میں پڑھا، نہ بہت زیادہ جلدی اور نہ ہی بہت زیادہ دیر سے۔