السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من استحب تأخيرها باب: جس نے عشاء کی نماز مؤخر کرنے کو مستحب قرار دیا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2116
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنِي جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: مَكَثْنَا لَيْلَةً نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: " إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ يَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِهِمْ هَذِهِ السَّاعَةَ " قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ ثُمَّ صَلَّى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات ہم عشا کی نماز کے لیے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کرتے رہے، جب رات کا تقریباً تہائی حصہ گزر گیا تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”تم ایسی نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے علاوہ کسی بھی دین و ملت والا اس کا انتظار نہیں کر رہا۔ اگر میں اپنی امت پر اس کو بھاری نہ سمجھتا تو میں اس وقت ان کو نماز پڑھایا کرتا۔“ پھر مؤذن کو حکم دیا، اس نے اقامت کہی، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھائی۔