حدیث نمبر: 21115
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكَرَابِيسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قَدِمَا عَلَيْنَا بَيْهَقَ وَهُمَا صَحِيحٌ سَمَاعُهُمَا قَالَا: أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ - يَعْنِي: الْبَرَاءَ حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ طَيْسَلَةَ، أَخْبَرَنِي مَعْنُ بْنُ ثَعْلَبَةَ الْمَازِنِيُّ، حَدَّثَنِي الْأَعْشَى الْمَازِنِيُّ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْشَدْتُهُ:.حافظ ثناء اللہ
اعشیٰ مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر اشعار پڑھے: اے لوگوں کے رب اور عرب کے فیصلہ کرنے والے!
میری ملاقات ایک زبان دراز آدمی سے ہوئی
میں تو گھبراہٹ اور پریشانی کی حالت میں رزق تلاش کر رہا تھا۔
کراسی کی روایت: میں تو رزق کی تلاش میں نکلا، اس نے میرا پیچھا نیزوں کے ساتھ کیا، اس نے وعدہ کی خلاف ورزی کی اور گناہ میں لت پت ہو گیا۔ وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں، تو نبی ﷺ نے ان کی مثال دیتے ہوئے فرمایا تھا: «وَهُنَّ شَرُّ غَالِبٍ لِمَنْ غَلَبَ» ”وہ جس پر غالب آ جاتی ہیں ان کے لیے بدترین شر ہوتی ہیں۔“