حدیث نمبر: 21114
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ بِشَيْءٍ مِنَ الشِّعْرِ؟ ⦗٤٠٦⦘ قَالَتْ: رُبَّمَا دَخَلَ وَهُوَ يَقُولُ: " سَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مَنْ لَمْ تُزَوِّدِ ".
حافظ ثناء اللہ

عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کی کوئی مثال اشعار میں سے ہے؟ انہوں نے فرمایا: آپ ﷺ کبھی کبھی اس طرح کہہ لیا کرتے تھے: ”عنقریب تیرے پاس وہ شخص خبریں لائے گا، جس کو تو نے زادِ سفر بھی نہیں دیا تھا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21114
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»