حدیث نمبر: 2111
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ثنا أَبُو الْمُثَنَّى ثنا مُسَدَّدٌ ثنا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ⦗٦٥٩⦘ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ " وَسَائِرُ مَا رُوِيَ فِي التَّعْجِيلِ بِالصَّلَوَاتِ عَلَى الْعُمُومِ قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ عشاء کی نماز کا وقت کب ہے۔
رسول اللہ ﷺ عشاء کی نماز تہائی رات کا چاند ڈوب جانے پر ادا فرماتے تھے۔
(ب) وہ تمام روایات جو عموماً نمازوں کو جلدی ادا کرنے کے بارے میں ہیں ان کا ذکر گزر چکا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2111
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الترمذي 165»