السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : شهادة أهل العصبية باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 21069
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَقِيلٍ الْجَعْدِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، ⦗٣٩٤⦘ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَبْدَ اللهِ، أِيُّ عُرَى الْإِسْلَامِ أَوْثَقُ "؟ قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " الْوَلَايَةُ فِي اللهِ، الْحَبُّ فِي اللهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللهِ ". رُوِيَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُم قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَوْ خَصَّ امْرُؤٌ قَوْمَهُ بِالْمَحَبَّةِ مَا لَمْ يَحْمِلْ عَلَى غَيْرِهِمْ مَا لَيْسَ يَحِلُّ لَهُ فَهَذِهِ صِلَةٌ لَيْسَتْ بِعَصَبِيَّةٍ، فَقَلَّ امْرُؤٌ إِلَّا وَفِيهِ مَحْبُوبٌ وَمَكْرُوهٌ ".حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ! اسلام کا کون سا کڑا زیادہ مضبوط ہے؟“ میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول جانتے ہیں، فرمایا: ”اللہ کے لیے دوستی کرنا اور اللہ کے لیے محبت اور بغض رکھنا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر آدمی اپنی قوم سے محبت کو خاص کر دیتا ہے دوسروں پر اس کو محمول نہیں کرتا، تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ صلہ رحمی ہے عصبیت نہیں ہے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں مگر وہ محبوب و مکروہ ہوتے ہیں۔