حدیث نمبر: 21068
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَائِذِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَوَاصِلِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَافِينَ فِيَّ "، أَوْ قَالَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ ".
حافظ ثناء اللہ

ابو ادریس عائذی فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ کہنے لگے: میں نے نبی ﷺ کی زبانِ مبارک سے جو سن رکھا ہے وہ بیان کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر صلہ رحمی کرتے ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری رضا کے لیے صف بندی (اکٹھے بیٹھتے) ہیں، اور میری محبت ان کے لیے ثابت ہو گئی جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21068
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»