حدیث نمبر: 21049
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لِيَسْتَغْنِيَ بِهِ؟ فَقَالَ: " لَا، لَيْسَ هَذَا مَعْنَاهُ، مَعْنَاهُ: يَقْرَؤُهُ حَدْرًا وَتَحْزِينًا ".
حافظ ثناء اللہ

سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ ”جو قرآن کو ترنم سے نہ پڑھے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔“ ایک آدمی نے کہا کہ وہ اس سے بے پروا ہوتا ہے، فرمانے لگے: یہ معنی نہیں ہے بلکہ وہ اس کو حدر (غم گینی) کے ساتھ پڑھتا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21049
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»