❮
❯
حدیث نمبر: 21050
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ يَقُولُ: قَالَ: عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ: سَمِعْتُ أَبَا لُبَابَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ "، قُلْتُ لِابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ، أَرَأَيْتَ إِذَا لَمْ يَكُنْ حَسَنَ الصَّوْتِ؟ قَالَ: يُحَسِّنُهُ مَا اسْتَطَاعَ. هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِي إِسْنَادِهِ عَلَى ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، فَرُوِيَ عَنْهُ مِنْ هَذَيْنِ الْوَجْهَيْنِ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقِيلَ: عَنْهُ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقِيلَ: عَنْهُ، وَغَيْرُ ذَلِكَ. وَقَوْلُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يُؤَكِّدُ صِحَّةَ تَأْوِيلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو لبابہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قرآن کو ترنم سے نہیں پڑھتا، اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔“ میں نے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے کہا: جب آواز خوبصورت نہ ہو۔ فرمانے لگے: جتنی آواز خوبصورت بنا سکتا ہو بنا لے۔
اس حدیث کی سند میں ابن ابی ملیکہ پر اختلاف ہے: ان سے یہ ان دو طریقوں سے روایت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے: ان سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے، اور کہا گیا ہے: ان سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطے سے، اور اس کے علاوہ بھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21050
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر»