❮
❯
حدیث نمبر: 21048
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ قَالَا: أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: أَتَيْتُهُ فَسَأَلَنِي: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ عَنْ ⦗٣٨٩⦘ كَسْبِي، فَقَالَ سَعْدٌ: تَجَارٌ كَسَبَةٌ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي: يَسْتَغْنِي بِهِ.
حافظ ثناء اللہ

عبیداللہ بن ابی نہیک فرماتے ہیں کہ میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں اپنے ذریعہ معاش کے بارے میں بتایا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کمانے والے تاجر ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جو قرآن کو ترنم سے نہ پڑھے اس کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔“ سفیان کہتے ہیں: یعنی اس کے ذریعے (لوگوں سے) بے نیاز ہو جائے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21048
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»