حدیث نمبر: 21038
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ثَابِتٌ، قَالَ قَطَنٌ: أَحْسِبُهُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَقَامَ أَهْلُهَا سِمَاطَيْنِ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَابْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے، ان کے تجربہ کار لوگ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھ رہے تھے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! آج اس کا راستہ چھوڑ دو۔
آج اس کے مقابلے میں آنے والے کی ہم گردن اتار دیں گے۔
جو کھوپڑیاں تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے دور کر دیں۔
اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان لانے والا ہوں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! حرم اور رسول اللہ ﷺ کے پاس اشعار کہہ رہے ہو؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! رک جا۔ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ کلام ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت واقع ہو رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک سوار نے نبی ﷺ کو پا لیا اور ان کے ساتھ ایک حدی خواں تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 21038
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»