السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21037
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ أَبُو الْقَاسِمِ اللَّخْمِيُّ، بأَصْبَهَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ، سَنَةَ ثَمَانٍ وَسَبْعِينَ وَمِائَتَيْنِ بِمَدِينَةِ شِبَامٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ مَشَى عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ:.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ عمرہ القضا کو ادا کرنے کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اے کفار! اس کے راستے کو چھوڑ دو۔
اللہ نے اس کی مہمانی فرمائی ہے، بہترین مقتول وہ ہے جو اس کے راستے میں قتل ہو۔ اس تاویل پر ہم نے جہاد کیا۔ جبکہ ہم نے تمہارے ساتھ لڑائی کی اس کے مہمان کے ساتھ مل کر۔