السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ إِلَى الشَّامِ، فَسَمِعَ حَادِيًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ: " أَسْرِعُوا بِنَا إِلَى هَذَا الْحَادِي "، قَالَ: فَأَسْرَعُوا حَتَّى أَدْرَكُوهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَنِ الْقَوْمُ "، قَالُوا: مُضَرُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَنَحْنُ مِنْ مُضَرَ "، قَالَ: فَبَلَغَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى مُضَرَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَا الْإِبِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ: " فَكَيْفَ ذَاكَ "؟ قَالَ: أَغَارَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى إِبِلٍ فَاسْتَاقَهَا، فَجَعَلَ يَقُولُ لِغُلَامِهِ أَوْ لِأَجِيرِهِ: اجْمَعْهَا، فَيَأْبَى، فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَفَرَّقُ، فَضَرَبَهُ وَكَسَرَ يَدَهُ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَقُولُ: وَايَدَاهْ وَايَدَاهْ فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ وَهُوَ يَقُولُ: قُلْ كَذَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ. قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ حَادِيَنَا وَنَى ".سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ہشام کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں آپ ﷺ نے سواریوں کے چلانے والے کی آواز سنی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے جلدی اس حدی خواں کے پاس لے چلو۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جلدی کی اور وہاں تک جا پہنچے اور آپ ﷺ نے سلام کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کون سی قوم ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: مضر۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارا تعلق بھی مضر سے ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ اس رات آپ ﷺ نے اپنی نسبت مضر کی طرف کی۔ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دورِ جاہلیت میں سب سے پہلے حدی خوانی کا کام کس نے کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کیسے؟ ایک آدمی نے ہمارے اونٹ چرائے اور ان کو چلایا۔ وہ اپنے غلام یا مزدور سے کہہ رہا تھا: ان کو جمع کرو۔ اس نے انکار کر دیا۔ اونٹ بکھر گئے۔ اس کا اونٹ کو مارنے کی وجہ سے ہاتھ ٹوٹ گیا تو غلام کہنے لگا: ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ۔ اونٹ جمع ہو رہے تھے، وہ کہہ رہا تھا: اس طرح کہو!“ رسول اللہ ﷺ ہنس رہے تھے۔
(ب) مجاہد رحمہ اللہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔